محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو

دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو سنتا نہیں کسو کی مرا یار کچھ کہو غمزہ ادا نگاہ تبسم ہے دل کا مول تم بھی اگر ہو اس کے خریدار کچھ کہو شیریں نے کوہ کن سے منگائی تھی جوئے شیر گر امتحاں ہے اس سے بھی دشوار کچھ کہو ہر آن آ مجھی کو ستاتے ہو ناصحو سمجھا کے تم اسے بھی تو یک بار کچھ کہو اے ساکنان کنج قفس صبح کو صبا سنتے ہیں جائے گی سوئے گلزار کچھ کہو عالم کی گفتگو سے تو آتی ہے بوئے خوں بندہ ہے اک نگہ کا گنہ گار کچھ کہو سوداؔ موافقت کا سبب جانتا ہے یار سمجھے مخالف اس کو کچھ اغیار کچھ کہو

— محمد رفیع سودا

بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا

بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا کوئی دم کو پھولتا ہے یہ گل زار دیکھنا نرگس کی طرح خاک میں میری اگیں ہیں چشم ٹک آن کے یہ حسرت دیدار دیکھنا کھینچے تو تیغ ہے حرم دل کے صید پر اے عشق پر بھلا تو مجھے مار دیکھنا ہے نقص جان دید ترا پر یہی ہے دھن جی جاؤ یار ہو مجھے یک بار دیکھنا اے طفل اشک ہے فلک ہفتمیں پہ عرش آگے قدم نہ رکھیو تو زنہار دیکھنا پوچھے خدا سبب جو مرے اشتیاق کا میری زباں سے ہو یہی اظہار دیکھنا ہر نقش پا پہ تڑپے ہے یارو ہر ایک دل ٹک واسطے خدا کے یہ رفتار دیکھنا کرتا تو ہے تو آن کے سوداؔ سے اختلاط کوئی لہر آ گئی تو مرے یار دیکھنا تجھ بن عجب معاش ہے سوداؔ کا ان دنوں تو بھی ٹک اس کو جا کے ستم گار دیکھنا نے حرف و نے حکایت و نے شعر و نے سخن نے سیر باغ و نے گل و گلزار دیکھنا خاموش اپنے کلبۂ احزاں میں روز و شب تنہا پڑے ہوئے در و دیوار دیکھنا یا جا کے اس گلی میں جہاں تھا ترا گزر لے صبح تا بہ شام کئی بار دیکھنا تسکین دل نہ اس میں بھی پائی تو بہر شغل پڑھنا یہ شعر گر کبھو اشعار دیکھنا کہتے تھے ہم نہ دیکھ سکیں روز ہجر کو پر جو خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا

— محمد رفیع سودا

دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے

دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے گلشن ہستی نظر آتا ہے اک صحرا مجھے عقل کی وادی میں ہوں گم کردۂ مقصود عشق ڈھونڈھتا ہوں اور نہیں ملتا کوئی رستا مجھے یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے شوق میرا طالب دیدار ہو جاتا اگر دیکھتا موسیٰؔ مجھے سینا مجھے جلوا مجھے شاعری کیا کفش بردار گرامی ہوں حفیظؔ بے کمالی کے سوا کوئی نہیں دعویٰ مجھے

— حفیظ جالندھری